اللہ عز وجل نے جو حضرت یحیی علیہ السلام کے حصور کی تعریف کی ہے
حصورا کے معنی یہ ہیں کہ وہ گناہوں سے معصوم تھے اور وہ گناہ نہ کرتے تھے
مستند حوالہ: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ، ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ
👇 کمنٹ میں انتہائی ادب سے [سبحان اللہ] لکھیں اور فالو کریں!
دوسرا باب | آٹھویں فصل | ضروریات زندگی کی دوسری قسم (حصہ 3)
اور یہی حال حضرت عیسی علیہ السلام کا ہے کہ وہ عورتوں سے الگ رہے اگر یہ امر ایسا ہی ہوتا جیسا کہ بیان کرتے ہو تو ضرور وہ نکاح کر تے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ عز وجل نے جو حضرت یحیی علیہ السلام کے حصور (غیر شادی شدہ) کی تعریف کی ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ نامرد تھے یا ان کا سِرِّ مرد (مردانہ شرم گاہ) تھا ہی نہیں بلکہ اس پر بڑے بڑے مفسرین اور علماے ناقدین کا انکار منقول ہے، وہ کہتے ہیں کہ یہ تو نقص و عیب ہے جو انبیا علیہم السلام کی شان کے لائق نہیں، بلکہ حصورا کے معنی یہ ہیں کہ وہ گناہوں سےمعصوم تھے اور وہ گناہ نہ کرتے تھے بعض کہتے ہیں وہ گناہ (زنا) سے رکے ہوئے تھے، بعض نے کہا کہ وہ نفسانی خواہشات سےمجتنب (الگ) تھے اور بعض نے کہا کہ ان کاعورتوں کی طرف میلان تھا ہی نہیں۔
کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ
مختصر نام: الشفا شریف
مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ
مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ
#HazratYahya
#HazratIsa
#QisasUlAnbiya
#Islam
#TGG
#Shorts
#IslamicShorts
#AlShifaShareef
#AshShifa
#QadiIyad
#IslamicStatus
#عصمت_انبیا
#ThinkGoodGreen